ابنا: روزنامہ گارڈین نے اعتبار سنجی ادارے موڈیز کی جانب سے برطانیہ کا نام AAAرتبہ کی فہرست سے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:برطانیہ کے وزیر خزانہ جورج اووبورن نے وعدہ دیا تھا کہ اسنے اس رتبے کو بچانے کیلئے دقیق حساب کتاب کے ساتھ ضروری اقدام کئے ہیں لیکن فہرست جاری ہونے سے وہ اب کافی دباو میں پڑ گئے ہیں۔
برطانیہ اقتصادی ممتاز رتبہ کھونے سے بہت زیادہ سیاسی مشکلات میں گھر جائے گا۔
اعتبار سنجی ادارہ موڈیز سب سے بڑا اعتبار سنجی ادارہ ہے جس نے برطانیہ کو اقتصادی ممتاز مقام AAAرکھنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کرکے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اقتصادی رشد میں گراوٹ اور بڑتے قرضے کے پیش نظر ممتاز مقام سے گر کر AA۱پر آ پہنچا ہے۔
وزیر خزانہ اوزبورن نے AAAرتبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:اس بات نے ایک بار پھر ہمارے ملک کے قرضے کی یادہانی کی ہے۔
اس بیچ امریکی اقتصاد داں پروفسر جک راسموس نے رشیاٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا:برطانیہ مستقبل میں بھی مذید بجٹ خسارے اور قرضے میں ڈوب جائے گا اور شاید ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ کرنے پر مجبور ہو جائے۔
انہوں نے مذید کہا:یہ تو برطانیہ میں بڑتی اقتصادی گراوٹ کا آغاز ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف برطانیہ بلکہ کسی بھی ملک کے زیادہ سے زیادہ نوٹ چھاپنے سے ممکن ہے کہ بینکی نظام قائم رہے لیکن اس سے اقتصاد میں ترقی ممکن نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے مذید کہا: اس اعتبار سے برطانیہ مستقبل میں قرضے میں ڈوبتا رہے گا۔
ایسے میں یورونیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا کہ:برطانیہ کےممتاز رتبہ کھونے سے ملک کےوزارت خزانہ پرشدید ضربہ وارد ہو گیا ہے۔برطانیہ نے پچھلے سالوں میں دعوی کیا تھا کہ یورو کے میدان میں سے اپنے آپ کو دور رکھنے سےاپنی مالی اور اقتصادی حالت کو بحران سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
برطانیہ کے وزیر خزانہ اوزبورن نے کہا:اس مسئلے نےبرطانیہ کے قرضے کے مشکلات کو بڑھا دیا ہے۔ یہ ان سب کیلئے واضح پیغام ہے جو کہ کیوبک کے مانند اپنے سروں کو برف میں چھپاتے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق رواں سال میں برطانیہ کا قرضہ بڑ جائے گا اور ۹۳/۳داخلی تولید ناخالص تک پہنچے گا۔
.......
/169